جمعه  ،05 جون  ،2026ء   |   روزانہ کی حدیث
’’جو شخص اپنے برادر مؤمن پر تہمت و بہتان لگائے وہ اہل دوزخ ہوگا۔‘‘(امام جعفر صادق علیہ السلام) ( ( بحارالا نوار: ج 75، ص 260، ح 58))
Image

تیس راتوں میں لہو سے لکھی اشک و عشق کی داستان

تیس راتوں میں لہو سے لکھی اشک و عشق کی داستان

تیس راتوں میں لہو سے لکھی اشک و عشق کی داستان

  • سید حسنین عارف

✍️: عارف بلتستانی 

arifbaltistani125@gmail.com

جنگ رمضان کو آج تیس راتیں مکمل ہوئی ہے۔ یہ تیس راتوں کی ایک حقیقی کہانی ہے۔ جو سرخ لہو سے تاریخ کے اوراق پر ثبت ہوئی ہے۔  اس کہانی کا پس منظر کچھ یوں ہے۔ سحر کا وقت تھا، جب فضا پر سکون اور خاموش تھی۔ ابھی سورج پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا، اور شہر کی رونقیں بیدار بھی نہیں ہوئی تھیں۔ اسی خاموشی میں، ایک خوفناک خبر بجلی بن کر گری۔ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنه ای، وہ عوامی مقبول رہنما، جن کی آنکھوں میں کروڑوں لوگوں کے خواب تھے، جن کی آواز میں ملت کی طاقت گونجتی تھی، وہ اس حملے کا نشانہ بن گئے۔ ان کا پاکیزہ لہو، جو پہلے ہی حق اور انصاف کی راہ پر نچھاور ہو چکا تھا، اب اس مٹی میں مل گیا تھا، جس کی حفاظت کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔


آسمان نے جیسے خود بھی آنسو بہانا شروع کر دئے۔ شہروں کے ہر کونے سے، ہر گھر سے، ایک ہی آواز ابھرنے لگی۔ یہ صرف ایک لیڈر کی شہادت کا غم نہیں تھا، یہ ایک قوم کے دل کے ٹوٹنے کا درد تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی، اور ہر دل غصے اور ناقابلِ تسخیر عزم سے بھر گیا تھا۔ سحر کا وہ اندھیرا، سوگ کی پہلی رات کا آغاز تھا۔ ہر طرف ایک گہرا سناٹا تھا، لیکن اس سناٹے میں ایک طوفان کی تیاری تھی۔ ہر شخص، اپنے دل میں، سپریم لیڈر کے لہو کا قرض محسوس کر رہا تھا۔ وہ لہو، جو آزادی، خود مختاری اور اسلامی اقدار کی علامت تھا۔


سوگ کی اس پہلی رات کے اندھیرے میں، جب سحر کی پہلی کرنیں نمودار ہو رہی تھیں، قم کے ایک پرانہ محلہ آذر میں موجود امامزادہ موسی مبرقع کے ضریح کے صحن میں، تاریخ کا ایک نیا باب لکھا جا رہا تھا۔ قم المقدس جو پہلے بھی علم و معرفت کا مرکز تھا، اب اس شہید رہبر کی یاد میں ایک نئی روشنی سے منور ہو گیا۔ "چلڈرن ورلڈ" (دنیای کودک) کے نام سے جو فکری و ہنری اسٹال سجایا گیا تھا، وہ اب محض بچوں کے لیے کھیل کا میدان نہیں رہا تھا۔ وہ اب اس سپریم لیڈر کے خواب کی تعبیر بن گیا تھا، جنہوں نے ہمیشہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر زور دیا۔


ننھے ہاتھ، جو پہلے رنگ بھر رہے تھے، اب وہ پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ ان کی معصوم آنکھوں میں اب صرف سوالات نہیں، بلکہ ایک نیا عزم تھا۔ شہید رہبر کا سحر کے وقت بہا ہوا پاکیزہ لہو، ان کے لیے علم کی وہ مشعل بن گیا تھا، جو اندھیروں کو چیر کر روشنی پھیلا رہی تھی۔ وہ فنکار، وہ کہانی کار، وہ استاد، سب مل کر ان بچوں کو یہ سکھا رہے تھے کہ علم ہی طاقت ہے، اور یہی طاقت دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتی ہے۔ پہلی رات، ایک نئے علم کا سورج طلوع ہوا، جو شہید کے سحر کے لہو سے روشن تھا۔


اگلی راتوں میں، وہی صحن، وہی فضا، لیکن اب منظر میں ایک گہرا رنگ بھر چکا تھا۔ اب صرف بچے نہیں تھے، بلکہ پورا معاشرہ، خاندان، نوجوان، بزرگ، سب ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جمع۔ سپریم لیڈر کی شہادت نے، جو سحر کے وقت واقع ہوئی تھی، انہیں متحد کر دیا تھا۔ ان کا لہو، جو اس اندھیرے وقت میں گرا تھا، اب ان کے دلوں میں دوڑ رہا تھا۔ ہر ہاتھ میں لہو کے رنگ جیسا سرخ پرچم تھا۔ ہر زبان پر وہ حماسی نعرے، جو صرف احتجاج نہیں تھے، بلکہ دشمن کو للکارنے کی آواز تھے۔


ان راتوں میں خاندان، اپنی اقدار، اپنی شناخت، اور اپنی تہذیب کے دفاع کے لیے اکٹھے ہوئے۔ ان کے چہرے پر صرف غم نہیں ، بلکہ ایک ناقابلِ تسخیر عزم۔ شہید رہبر کے سحر کے وقت بہا ہوا لہو، ان کے دلوں میں اتحاد کا وہ سمندر پیدا کر چکا تھا، جو کسی بھی طوفان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ وہ اس وقت صرف اپنے ملک کی حفاظت نہیں کر رہے ، بلکہ وہ انسانیت اور اسلامی اقدار کی جنگ لڑ رہے ہیں۔  


غم کم ہو کر ایک ٹھوس عزم میں بدل چکی ہے۔ سپریم لیڈر کے افکار، ان کی بصیرت، اور ان کی قربانی، سب اب ایک زندہ حقیقت بن چکے ہیں۔ شہید آوینی کا وہ قول کہ "قافلہء عشق ہر عصر میں سفر کر رہا ہے اور یہ اس جملے کی تفسیر ہے۔ کُلٌُ یَومٍ عاشورا و کُلٌُ ارضٍ کَربَلا یہ جملہ شیطان کو لرزہ براندام کر دیتا یے اور ناصرین حق کو رحمت دائم اور فیضان کے لئے امیدوار کر دیتا ہے۔ راہِ قُدس، مردِ جنگ کا طلبگار ہے، اور مردِ جنگ کربلائی ہے، اور کربلائی، مردِ میدانِ عشق ہے، اور سختیوں، مشکلات، سر کٹانے اور جان لُٹانے سے ڈرتا نہیں۔ ہمیں جلنے کا خوف نہیں ہے کہ ہم ایسے پروانے ہیں جو نور کے عاشق ہیں اور جہاں کہیں بھی شمعِ ولایت کا نور ہو گا ہم اس کے گرد طواف کریں گے۔"  اب ایک عملی تصویر بن کر سامنے آ رہا تھا۔


ان تاریکی راتوں میں قوم نے فیصلہ کر لیا کہ سپریم لیڈر کا سحر کے وقت بہا ہوا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کی شہادت، دشمن کے لیے شکست کا نہیں، بلکہ ایک نئی، مضبوط اور پرعزم قوم کے ابھرنے کا اشارہ تھی۔ یہ قوم، علم، اتحاد، اور اخلاقی مضبوطی کے ساتھ، اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے تیار تھی۔ وہ دشمن کو یہ باور کرانے کے لیے تیار تھے کہ ان کا سحر کا لہو، اس قوم کے عزم کو اور بھی مضبوط کرے گا۔


یوں، تیس راتوں کے اس سفر میں، ایک قوم نے اپنی تاریخ کا سب سے مشکل باب لکھا۔ سپریم لیڈر کا سحر کے وقت بہا ہوا لہو، جو ان کی شہادت کا غم تھا، وہ عزم اور اتحاد کی وہ شمع بن گیا، جس نے پوری قوم کو روشن کیا۔ یہ کہانی صرف ایک ملک کی نہیں، بلکہ ہر اس قوم کی ہے جو آزادی، خود مختاری، اور اپنے اقدار کے لیے لڑ رہی ہے۔ یہ کہانی ہے کہ کس طرح سپریم لیڈر کی قربانی، جو سحر کے اندھیرے میں ہوئی،  پوری امت اسلامیہ کو متحد کر کے، بقا کے اس سفر پر گامزن کر سکتی ہے۔ اور یہ سفر، اب رکنے والا نہیں، جب تک کہ سرخ لہو کا قرض چکایا نہ جائے۔ یہ ہمارا پیغام استقامت ہے، اور یہ وہی نور ہے جو زمان و مکان کی وسعتوں سے بالاتر ’’فاستقم کما اُمِرتُ وَ مَن تَابَ معک‘‘ کے سرچشمے سے فروزاں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آنے والا زمانہ ہمارا ہے۔ العاقبۃ للمتقین۔"

کمنٹس

کمنٹ لکھیں

براہ کرم نوٹ کریں، منظوری کے بعد کمنٹ شائع کیے جائیں گے۔